بنگلورو۔21؍مارچ(ایس او نیوز) کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں ریاستی حکومت کے موقف پر تبادلۂ خیال کیلئے کل شام وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ریاست کی نمائندگی کرنے والے مرکزی وزراء اور ارکان پارلیمان کی میٹنگ ودھان سودھا کے کانفرنس ہال میں طلب کی ہے۔ میٹنگ میں 16فروری کو صادر کئے گئے فیصلے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کی صدارت میں منعقد ہونے والی میٹنگ میں ریاست کے تمام اراکین پارلیمان کو مدعو کیاگیا ہے۔ وزیر برائے آبی وسائل ایم بی پاٹل ، وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا، محکمۂ آب پاشی اور محکمۂ قانون کے اعلیٰ افسران وغیرہ میٹنگ میں حصہ لیں گے اور خاص طور پر کاویری کیس میں ریاست کی پیروی کرنے والے وکیلوں کو میٹنگ میں بلایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں ریاستی حکومت کے سامنے جو امکانات ہیں ان کا میٹنگ میں جائزہ لیا جائے گا اور وزیر اعلیٰ سدرامیا اس ضمن میں اراکین پارلیمان سے مشورے بھی لیں گے۔ کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں ریاستی حکومت کو کیا موقف اپنانا ہے ، اس پر حکومت کی طرف سے تجویز اراکین پارلیمان کے سامنے رکھی جائے گی اور اتفاق رائے سے جو فیصلہ لیا جائے گا اسی کی بنیاد پر حکومت اپنا موقف وضع کرے گی۔ارکان پارلیمان کی میٹنگ کے فیصلے پر 23مارچ کی کابینہ میٹنگ میں بحث کی جائے گی اور میٹنگ میں طے کیا جائے گا کہ حکومت کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی طرف سے صادر فیصلے کا چیلنج کرے گی یا نہیں حالانکہ سابق وزیر اعظم اور جنتادل (ایس) سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا نے ریاستی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ کاویری آبی تنازعہ کے سلسلے میں عدالت عظمیٰٖ کے فیصلے کا چیلنج نہ کرے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں جو فیصلہ سنایا ہے اس سے ریاست کو 14ٹی ایم سی فیٹ پانی افزود مل سکا ہے، اس فیصلے کا چیلنج کئے جانے سے ریاست کے حصہ میں آیا ہوا پانی دوبارہ کم ہوسکتا ہے۔